پنجاب پولیس ، سندھ پولیس سے جیت گئی,پولیس مقابلے کا مقدمہ پنجاب میں درج“

آخر کار پنجاب پولیس ، سندھ پولیس سے جیت گئی ، پنجاب پولیس نے اپنے تھانے ماچھکہ میں اندھڑ گینگ اور مبینہ پولیس مقابلے کا سچا اور کھرا مقدمہ درج کرنے میں کامیاب ہو گئی ، حالانکہ سندھ پولیس بھی ان ڈاکوئوں کو مارنے کی سخت دعویدار تھی، دوسری طرف جانو اندھڑ اور دیگر ڈاکووں کی ہلاکت کے مقدمات پنجاب کے بعد سندھ پولیس نے بھی درج کر لٸے ہیں,


ذرائع کے مطابق کچہ کے علاقہ رونتی میں اندھڑ گینگ کے سربراہ جانو انڈھڑ سمیت 6 افراد کو دعوت پر بلا کر ان کو قتل کرنے والے شخص کا نام عثمان چانڈیہ ہے اور اسکا تعلق تھانہ ظاہرپیر کی حدود ججہ عباسیاں سے ہے۔

شاہد چانڈیہ عرصہ دراز سے چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث تھا اور اندھڑ گینگ سمیت دیگر ڈکیتوں کے ساتھ مل کر وارداتیں کر رہا تھا ۔زرائع بتاتے ہیں کہ عثمان چانڈیہ گزشتہ روز اندھڑگینگ کے سرغنہ کی دعوت پر انکے ڈیرے پر گیا ہوا تھا جہاں اس نے رات کو سوتے ہوئے ڈکیتوں پر فائرنگ کرکے قتل کر دیا اور عثمان چانڈیہ نے ہی فون کرکے رحیم یار خان پولیس کو بتایا کہ میں نے اندھڑگینگ کے اراکین کو مار دیا ہے جس کے بعد پولیس نے پریس ریلیز جاری کرکے کریڈیٹ لینا شروع کر دیا ۔عثمان چانڈیہ کے بارے معلوم ہوا ہے کہ یہ ڈکیتی کی وارداتوں کے ساتھ ساتھ پولیس کے لئے مخبری کا کام بھی کرتا تھا جبکہ متعدد مقدمات میں پولیس کو مطلوب بھی تھا۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق مرنے والے ڈکیتوں کی لاشیں نا پنجاب پولیس کے پاس ہیں اور نا ہی سندھ پولیس کے پاس , اندھڑگینگ کے دیگر ساتھیوں نے وقوعہ کے کچھ دیر بعد عثمان چانڈیہ کو پکڑ کر مار دیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے ۔واضع رہے کہ عثمان چانڈیہ کے دو اور بھائی صدام عرف صدامی چانڈیہ ججہ عباسیاں میں ڈکیتی کے دوران قتل کے مقدمہ میں جیل میں قید ہیں ۔

جبکہ”اندھڑ گینگ کے سربراہ جانو اندھڑ اور 6 ڈاکوئوں کے قتل” پر سندھ پولیس کا دعوی ہے کہ کشمور پولیس کے سربراہ امجد شیخ کی جانب سے حکمت عملی کے تحت ایک گینگ کو جانو گینگ کو ختم کرنیکا اہم “ٹاسک” دیا گیا تھا,گزشتہ روز اس گینگ نے جانو اندھڑ اور اس کے ساتھیوں کو دعوت پر بلایا اور کھانے میں نشہ آور دوائی ملا دی بعد ازاں جانو اندھڑ اور اسکے ساتھیوں پر گولیاں چلا کر قتل کردیا,ڈی پی او کشمور امجد شیخ جو کچے کے ڈاکوئوں کے لئے خصوصی طور پر تعینات کیا گیا تھا اور ڈاکوئو کے خاتمے کا ٹاسک دیا گیا تھا,

دوسری طرف رحیمیارخان پولیس نے اپنی پریس ریلیز میں اپنے موقف میں کہا ہے کہ پولیس کی کچہ ماچھکہ سے ملحقہ کچہ کشمور میں سندھ پولیس کی مدد سے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی بد نام زمانہ اندھڑ گینگ کا سرغنہ جانوں انڈھڑ چھ خطرناک ڈاکوؤں سمیت ہلاک، مرنے والے ڈاکوؤں کے سر کی قیمت 2 کروڑ روپے مقرر تھی، اندھڑ گینگ کے ڈاکو چوک ماہی میں قتل کیے گئے 9 افراد کے قتل میں مرکزی ملزم اور رحیم یارخان اور سندھ کے دس پولیس افسران وجوانوں کی شہادت میں انتہائی مطلوب تھے، ڈاکوؤں نے پولیس کی معاونت کی شبہ میں ایک شخص کو فائرنگ کر کے بے دردی سے موت کی گھاٹ اتار دیا، آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور کی رحیم یار خان پولیس کو اس بڑی کامیاب کارروائی پر شاباش آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے ٹیلی فونک رابطہ کچہ میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری کارروائیوں میں تیزی لانے پر اتفاق۔ تفصیل کے مطابق ڈی پی او رضوان عمل گوندل کی قیادت میں رحیم یارخان پولیس اے ایس پی شاہزیب چاچڑ کی نگرانی میں کچہ آپریشن کے بعد امن و امان کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے کچہ کریمینلز کے خلاف حکمت عملی کے تحت تسلسل کے ساتھ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیواں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھی کہ کچھ روز قبل کچہ ماچھکہ سے متصل کچہ کشمور میں بدنام زمانہ اندھڑ گینگ کی موجودگی کی اطلاع پاکر جامعہ حکمت عملی تشکیل دیتے ہوئے اندھڑ گینگ کے ڈاکوؤں کی ریکی شروع کر دی اور گزشتہ رات کچہ کشمور میں سندھ پولیس کی مدد سے ایک بڑی کارروائی کے دوران اندھڑ گینگ کا گھیراؤ کرتے ہوئے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈکارروائی میں بدنام زمانہ اندھڑ گینگ کا سرغنہ جانوں اندھڑ اپنے دیگر چھ خطرناک ساتھی ڈاکوؤں سمیت اپنے انجام کو پہنچ گیا، یاد رہے پولیس کی اس کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے بدنام زمانہ جانوں اندھڑ سمیت مارے جانے والے ڈاکوؤں کے سر کی قیمت 2کروڑ روپے مقرر تھی، مارے گئے ڈاکوؤں میں مشی اندھڑ، سمار شر، کٹہ شر،، بھوری شر، شہزادہ دشتی و دیگر شامل ہیں، پولیس کی اس بڑی کارروائی کے بعد کچہ کے ڈاکوؤں نے ایک شخص کو پولیس کو معاونت فراہم کرنے کے شبہ میں فائرنگ کر کے بے دردی سے قتل کر دیا، مارے گئے اندھڑ گینگ نے تقریباً ڈیڑھ سال قبل چوک ماہی کے مقام پر مسلح حملے میں نو افراد کو قتل کر دیا تھا اور اس کے علاوہ پنجاب پولیس رحیم یارخان کے ہیڈ کانسٹیبل ممتاز بلا، کانسٹیبلان اکبر گوپانگ، مجاہد حسین، شفقت شہید سمیت پانچ اہلکاروں کی شہادت اوراوباڑو میں سندھ پولیس کے ایک ڈی ایس پی، دو ایس ایچ اوز اور دو کانسٹیبلان کو شہید کرنے سمیت اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری، ڈکیتی، پولیس پر فائرنگ جیسے سنگین جرائم میں پنجاب اور سندھ پولیس کو مطلوب چلے آرہے تھے، آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے رحیم یارخان پولیس کی ڈاکوؤں کے خلاف بڑی اور کامیاب کارروائی پر شاباش دی، دریں اثناء انہوں نے آئی سندھ پولیس غلام نبی میمن سے ٹیلی فونک رابطہ پر ان سے گفتگو کرتے ہوئے اس کامیاب مشترکہ آپریشن پر سندھ پولیس کو بھی شاباش دی،دونوں صوبوں کے پولیس سربراہان کا کچہ کو ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ افراد سے پاک کرنے کے لیے بروقت باہمی معلومات کا تبادلہ کرتے ہوئے آپریشن میں تیزی لانے پر اتفاق، اس موقع پر آر پی او بہاولپور رائے بابر سعید نے ڈی پی او رضوان عمر گوندل کے ہمراہ کچہ کا دورہ کرتے ہوئے مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا اور پولیس کی کچہ میں جاری انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کو مزید موئثر بنانے کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں